Saturday, 7 February 2015

نئے فرمانروا شاہ سلمان کے متعلق مشہور ہے کہ وہ نہایت انصاف پسند ہیں مگر وہ اس خوبی کے کتنے اعلیٰ درجے پر فائز ہیں اس کا اندازہ کتاب "Before He Became King" میں بیان کئے گئے ایک واقعہ سے کیا جاسکتا ہے۔ کتاب کے مصنف عبدالعزیز بن عبدالرحمان صوبہ ریاض کے محکمہ تعلیم کے ڈائریکٹر رہے اور انہوں نے اس دور کے امر سلمان کے دربار کا قریبی مشاہدہ کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ایک روز ایک یمنی اور ایک سعودی باشندے کا مقدمہ امیر سلمان کے پاس لایا گیا۔ یمنی شخص کی الیکٹرک آلات کی دکان تھی جہاں سعودی شخص پنکھا خریدنے آیا تھا۔ یمنی نے پنکھے کی قیمت 200 ریال بتائی مگر 180 ریال میں سودا طے ہوگیا۔ دوسرے ہی دن سعودی شخص دکان پر واپس آیا اور کہا کہ وہ پنکھے سے مطمئن نہیں لہٰذا واپس کرنا چاہتا ہے۔ یمنی نے شرافت سے پنکھا واپس لے کر 180 ریال لوٹادئیے۔ سعودی شخص نے مملکت کا شہری ہونے کے ناطے غیر ملکی یمنی کے ساتھ غنڈہ گردی کرنے کا سوچتے ہوئے اس سے 200 ریال واپس مانگے جو کہ پنکھے کی ابتدائی قیمت بتائی گئی تھی۔ اس بات پر دونوں میں تلخ کلامی ہوگئی اور بات گالم گلوچ تک جاپہنچی۔ سعودی نے کہا کہ وہ امیر سلمان کے پاس شکایت لے کر جائے گا۔ اس پر یمنی نے اسے چند گالیاں سنائیں اور کہا کہ اگر امیر اسے انصاف نہ دے گا تو یہ گالیاں اس کیلئے بھی ہیں۔ اب تو سعودی شخص کے ہاتھ بہت بڑی بات آگئی اور وہ واقعی شکایت لے کر دربار پہنچ گیا۔ یمنی شخص کا کہنا تھا کہ جب وہ دربار میں داخل ہورہا تھا تو اس کی ٹانگیں کانپ رہی تھیں اور وہ سوچ رہا تھا کہ 20 ریال کی بجائے 20 ہزار ریال بھی دے دیتا تو بہتر تھا۔ امیر نے یمنی شخص سے تفصیل جانی اور پوچھا کہ کیا اس نے واقعی انہیں گالی نکالی تھی۔ یمنی نے ساری بات صاف صاف کہہ دی کہ اس نے غصے میں کہا تھا کہ اگر امیر انصاف نہ کرے تو یہی گالیاں اس کیلئے بھی ہیں۔ مصنف عبدالعزیز لکھتے ہیں کہ امیر سلمان نے یمنی شخص کو بتایا کہ وہ حق پر ہے اور اسے انصاف ملے گا اور پھر سعودی شخص کو ایک زناٹے دار تھپڑ رسید کیا اور کہا کہ تیری بدسلوکی نے بے چارے یمنی کو اس قدر پریشان کیا کہ وہ گالیاں نکالنے پر مجبور ہوا۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN