Friday, 26 September 2014

مغربی میڈیا سعودی شاہی خاندان کے جابرانہ رویے اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے الزامات پر مبنی رپورٹس جا بجا تیار کرتا رہتا ہے اور اسی نوعیت کی ایک تازہ کتاب میں الزام لگایا گیا ہے کہ شاہی خاندان کے افراد اپنے غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ساتھ ا نتہائی براسلوک کرتے ہیں، ان کو مارتے پیٹتے ہیں اور آواز اٹھانے والوں کو مذہبی پولیس کے حوالے کردیتے ہیں۔ یہ کتاب "Behind Palace Walls" 51 سالہ خاتون کے گارشیا نے لکھی ہے۔ گارشیا کا تعلق جنوبی افریقہ سے ہے اور ان کا کہنا ہے کہ انہوں نے چار ماہ کیلئے ایک سعودی شہزادی کے ہاں ملازمت کے دوران غیر ملکی گھریلو ملازمین کے ساتھ بدترین سلوک دیکھا اور جب اس کے خلاف آواز اٹھائی تو اسے فوراً جہاز میں بٹھا کر ملک سے نکال دیا گیا۔ گارشیا کا کہنا ہے کہ وہ نوجوان سعودی شہزادی کے محل میں دو فلپائنی اور دو ملاوی کی خواتین ملازماﺅں کی سربراہ تھی۔ اس نے بتایا کہ شہزادی بات بات پر بگڑ جاتی تھی اور اکثر ملازم خواتین کو تشدد کا نشانہ بناتی، ان کے کمروں میں اودھم مچا کر توڑ پھوڑ کرتی اور خطرناک دھمکیاں بھی دیتی۔ اس کا کہنا ہے کہ فلپائنی ملازماﺅں کے ساتھ خصوصاً بہت برا سلوک کیا جاتا ہے اور ایک ملازمہ کو شہزادی نے ناراض ہونے پر حکم دیا کہ وہ برف سے بھری بالٹی کو سر پر اٹھا کر ساری رات اس کے کمرے کے باہر کھڑی رہے۔ گارشیا کا یہ بھی کہنا ہے کہ ظلم کے خلاف آواز اٹھانے والی ملازماﺅں کے پیچھے مغربی پولیس ”مطاوہ“ کو لگادیا جاتا ہے اور ملازمین کے پاسپورٹ مالکان کے قبضے میں ہونے کی وجہ سے وہ نجات بھی نہیں پاسکتے۔ گارشیا نے ریاض کو مشرق وسطیٰ کے سب سے زیادہ قدامت پسند شہر قرار دیا ہے دوبارہ کبھی وہاں نہ جانے کا عزم ظاہر کیا۔ داﺅد ابراہیم پر بھارتی انٹیلی جنس اداروں کی نظرےں نئی دہلی (نیوز ڈیسک) ایک وقت تھا جب داﺅد ابراہیم بھارتی انڈر ورلڈ کا بے تاج بادشاہ تھا تاہم اب اس کا اثر و رسوخ کم ہونے کے باوجود بھارتی حکومت و سیکیورٹی اداروں کی نیندیں اڑانے کے لئے نام ہی کافی ہے۔ بھارتی نیوز ویب سائٹ ڈی این اے میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق اب بھارتی انٹیلی جنس اداروں کو یہ خیال کھائے جارہا ہے کہ داﺅد ابراہیم نائجیرئین شدت پسند گروپ بوکوحرام کے ساتھ مل کر بھارت میں منشیات سمگل کرنے کے لئے پر تول رہا ہے۔ انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق داﺅد ابراہیم کے چھوٹے بھائی انیس ابراہیم نے حال ہی میں نائجیریا کا سفر کیا اور وہاں بوکوحرام کے سربراہ ابوبکر شکاﺅ سے ملاقات کی۔ دعویٰ کیا گیا ہے کہ بوکوحرام نے بھارت میں منشیات کی مارکیٹ پر نظریں جما رکھی ہیں۔ اس گروپ کو کیش کی ضرورت ہے اور بظاہر اس کا بندوبست داﺅد ابراہیم کے ساتھ مل کر بھارت میں منشیات سمگل کرکے کیا جائے گا۔ انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ بوکوحرام داﺅد ابراہیم کے گینگ کی مدد سے بھارت کے مختلف علاقوں میں منشیات فروش گروہ قائم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اس سلسلے میں سپلائی بھی داﺅد ابراہیم سے لی جائے گی۔ پولیس ذرائع کا دعویٰ ہے کہ کڑی نگرانی کے باعث داﺅد ابراہیم کے گینگ کے افراد کی نقل و حرکت بے حد محدود ہے لہٰذا سمگلنگ کے لئے بوکوحرام کے کارکنوں کو استعمال کیا جائے گا۔ بھارتی ایجنسیوں کا یہ بھی کہنا ہے کہ بھارت میں قریباً 2000 نائجیرین منشیات فروش ہیں، اب تک یہ ذاتی سطح پر کام کرتے تھے لیکن اب بوکوحرام انہیں ایک چھتری تلے اکٹھا کررہی ہے۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN