Friday, 26 September 2014

سعودی حکومت نے نطاقت سعودائزیشن پروگرام کے پہلے لیول کے تحت آنے والی کمپنیوں پر غیر ملکی ملازمین کو چار سال سے زائد ملازمت پر رکھنے پر پابندی عائد کردی ہے جبکہ جدہ چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کا کہنا ہے کہ اس فیصلے پر عملدرآمد انتہائی مشکل کام ہے۔ سعودی وزارتِ لیبر کا کہنا ہے کہ یہ پابندی تجربہ کار اور سعودی عرب میں پیدا ہونے والے غیر ممالک کے شہریوں پر بھی لاگو ہوگی اور 25 اکتوبر سے اس کا اطلاق ہوجائے گا جبکہ 6 ماہ بعد قیام کا عرصہ 2 سال تک محدود کردیا جائے گا۔ وزارت کا کہنا ہے کہ بیرون ممالک کے ملازمین کو یہ اجازت ہوگی کہ وہ اپنا ریذیڈنس پرمٹ پلاٹینم اور سبز نطاقت کمپنیوں میں منتقل کرسکیں۔ نئے قانون کے تحت سعودی کمپنیوں کو مختلف درجات میں تقسیم کیا گیا ہے اور ان میں سے پہلے لیول کی کمپنیوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ سعودی ملازمین کو زیادہ سے زیادہ جگہ دیں لہٰذا انہیں پہلے مرحلہ میں بیرون ممالک کے لوگوں کی ملازمت چار سال تک محدود کرنے کو کہا گیا ہے جبکہ بعد میں یہ عرصہ دو سال کردیا جائے گا۔ ان اقدامات کو مقصد پرائیویٹ سیکٹر میں سعودی شہریوں کو زیادہ سے زیادہ ملازمین فراہم کرنا ہے۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN