Tuesday, 1 April 2014

قومی سلامتی اور امورِ خارجہ کے لئے وزیراعظم کے مشیر سرتاج عزیز نے کہا ہے کہ پاکستان، سعودی عرب اور ایران کے درمیان تعلقات میں توازن لانا چاہتا ہے جو گذشتہ 5برسوں سے خرابی کا شکار ہیں۔ برطانوی نشریاتی ادارے کو ایک خصوصی انٹرویو میں سرتاج عزیز نے کہا کہ سابق حکومت کے دور میں ایک بھی سعودی وزیر پاکستان نہیں آئے تھے۔ حال ہی میں پاکستان اور سعودی عرب کے فوجی اور حکومتی اکابرین نے ایک دوسرے کے ممالک کے کئی دورے کیے ہیں۔ توقع ہے کہ پاکستان کی خطے میں امن کی کوششوں کے سلسلے میں وزیر اعظم نواز شریف اس سال مئی یا جون میں ایران کا دورہ کریں گے۔ ویسے بھی یہ مسلم امہ کے اتحاد کے لئے ضروری ہے کہ ان دونوں ممالک کے درمیان تعلقات بہتر ہوں۔ اس وقت دنیا میں جو فرقہ وارانہ تقسیم پھیل رہی ہے وہ اسلامی دنیا کے لئے انتہائی مضر ہے، اور مسلم امہ کا اتحاد ہمارا سب سے بڑا مقصد ہے۔ گذشتہ چند دنوں سے پاکستان میں یہ باتیں گردش کر رہی تھیں کہ اسلام آباد اپنے فوجی شام بھیج رہا ہے۔ تاہم وزیر اعظم نواز شریف نے ایک بیان میں واضح کر دیا تھا کہ پاکستان اپنے فوجی کہیں نہیں بھیج رہا۔ جب سرتاج عزیز سے پوچھا گیا کہ کیا پاکستان اپنا اسلحہ شام بھیج رہا ہے تو ان کا کہنا تھا کہ موجودہ حالات میں شام سے متعلق کوئی مخصوص معاہدہ نہیں ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ سعودی عرب کو چھوٹے ہتھیار اور جنگی طیارے فروخت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ عجیب سی بات ہے کہ ہماری ہتھیاروں کی صنعت ترقی پا رہی ہے اور دنیا بھر کے ممالک کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کے ہتھیار فروخت ہوں۔ سعودی عرب کے لئے کیا مشکل ہے، دنیا بھر میں اسلحہ مل رہا ہے جہاں سے چاہیں خرید لیں؟ یہ ایسی کوئی بات نہیں ہے کہ بیٹھے بٹھائے شک کیا جائے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ یہ بڑی افسوسناک بات ہے کہ ایک یا دو ایسے ملک ہیں جو کہ پاکستان کی مدد کرنا چاہتے ہیں، کیا ان پر پہلے ہی شک کرنا شروع کر دیں کہ پتہ نہیں پاکستان اس کی کیا قیمت دے رہا ہے؟ پتہ نہیں اس کا کیا مطلب ہے۔ ماضی کی فوجی حکومتوں نے رقم لے کر جو کچھ کیا ہو سو کیا ہو۔ ہمارا تو ریکارڈ بڑا صاف ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی ہوگی کہ ہم عدم مداخلت پر کابند رہیں، اپنے گھر کو ٹھیک کریں۔ ہمارے بہت سے مسائل ہیں۔ ماضی میں ہم نے کسی اور ملک کا ایجنڈا پورا کرنے کے لئے مداخلت کی۔ ان تمام معاملات میں جن میں ہمارا براہ راست تعلق نہیں ہے ان میں اب ہم غیرجانبدار رہیں گے۔ سعودی حکام کی جانب سے حکومت پاکستان کو گزشتہ دنوں ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد پر پارلیمان کے اندر اور باہر شدید تنقید ہو رہی ہے۔ کچھ لوگ اسے شام کی صورتحال سے جوڑتے ہیں تو کچھ اسے خطے میں مبینہ طور پر بڑھتی ہوئی شیعہ سنی کشیدگی کا نتیجہ قرار دیتے ہیں۔ سرتاج عزیز نے یاد دلایا کہ 1998 میں بھی جوہری تجربات کے بعد سعودی عرب نے پاکستان کی بھرپور مدد کی تھی۔شام سے متعلق پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے خارجہ امور کے مشیر نے کہا کہ پاکستان کی پالیسی مکمل طور پر غیرجانبدار ہے۔ ان تمام معاملات میں جن میں ہمارا براہ راست تعلق نہیں ہے ان میں ہم غیرجانبدار رہے ہیں اور رہیں گے۔اچانک ڈیڑھ ارب ڈالر دینے کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ یہ پاکستان کی اشد ضرورت تھی ’پچھلی حکومت بجٹ اور ادائیگیوں کے توازن میں بھی بڑا فرق چھوڑ کر گئی تھی۔علاوہ ازیں پاکستان میں متعین روس اور افغانستان کے سفیروں نے گذشتہ روز وزیراعظم کے مشیر برائے خارجہ امور و قومی سلامتی سرتاج عزیز کے ساتھ دفتر خارجہ میں الگ الگ ملاقاتیں کیں۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغان حکام کی الزام تراشیوں کے باعث پاکستان اور افغانستان کے تعلقات میں خاصی سردمہری پائی جاتی ہے جبکہ روس اور یوکرین کے قضیہ پر پاکستان نے غیرجانبدار پوزیشن برقرار رکھی ہے۔ باور کیا جاتا ہے کہ روسی سفیر نے یوکرین کے معاملہ پر اقوام متحدہ میں روس مخالف قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور یوکرین کے حوالہ سے اپنے ملک کے مؤقف کی مزید وضاحت کی ہے۔ افغان سفیر جانان موسیٰ زئی نے افغان حکام کی طرف سے کابل میں دہشت گردی کے حالیہ واقعات پر الزام تراشیوں کی وضاحتیں پیش کیں۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ پاکستان افغانستان میں قیام امن اور ترقی کے لئے تعاون جاری رکھے گا۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN