Friday, 14 March 2014

سعودی عرب کے ایک عالم دین نے بوفے میں پیش کیے جانے والے انواع واقسام کے کھانوں کی غیر متعین مقدار کے خلاف ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس کے بعد سماجی روابط کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ایک نئی بحث چھڑ گئی ہے اور بعض لکھاریوں نے اس فتوے کا مذاق اڑایا ہے۔ العربیہ ٹی وی کے مطابق معروف عالم دین شیخ صالح الفوزان نے سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے قرآن ٹی وی پر ایک پروگرام کے دوران ایک فتویٰ جاری کیا ہے جس میں انھوں نے کہا کہ بوفے میں کھلے عام کھانا خلاف اسلام ہے اور کھانے کی مقدار کو فروخت سے پہلے واضح کیا جانا چاہئے اور خریدار کو پتا ہونا چاہئے کہ وہ کیا خرید کررہا ہے۔ فتویٰ کے خلاف ٹویٹر پر بوفے کے حامیوں نے فتوے پر کڑی تنقید کی ہے۔ ٹویٹر پر حق اور مخالفت میں لکھاری اظہار خیال کررہے ہیں۔ ایک صاحب نے لکھا ہے کہ ''ریستورانوں نے اگر فروخت کئے جانے والے کھانوں کی مقدار واضح نہ کی تو وہ تباہ ہو جائیں گے کیونکہ یہ شیخ کے اصول کی نفی ہوگی کہ کھانے کی مقدار نامعلوم ہے۔ ایک اور نے لکھا ہے کہ ''یہ محض ایک فتویٰ ہے، قرآن نہیں ہے۔ اگر آپ اس کی پیروی کرنا چاہتے ہیں تو آپ اس میں آزاد ہیں لیکن آپ اس کو دوسروں پر مسلط نہیں کرسکتے۔ ایک اور صاحب نے لکھا: ''مبارک ہو۔ اب کھلا بوفے بھی ان اشیاء کی فہرست میں شامل ہوگیا جو ہمارے لئے ممنوع ہیں۔ بعض لکھاریوں نے شیخ صالح کے فتویٰ کی حمایت کی ہے اور انھوں نے ان کی ذات پر چھینٹے اڑانے والوں کی خوب خبر لی ہے۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN