Wednesday, 12 March 2014

سعودی عرب میں مقامی ذرائع ابلاغ نے مشرقی صوبے کی پولیس کے ترجمان کرنل زیاد الرقیتی کے حوالے سے بتایا ہے کہ صوبے میں مزدوروں کے قوانین کے نفاذ کے سلسلے میں شروع کی گئی مہم کے آغاز سے اب تک مختلف شہروں میں 32015 افراد گرفتار کیے جا چکے ہیں۔برطانوی نشریاتی ادارے کے مطابق سعودی عرب کے دیگر علاقوں میں بھی ایسی گرفتاریاں عمل میں آئی ہیں اور چند مبصرین کا کہنا ہے کہ کْل گرفتاریوں کی تعداد ایک لاکھ کے قریب ہو سکتی ہے۔گذشتہ ہفتے مکہ میں موجود حراستی مرکز میں احتجاج بھی شروع ہوگیا تھا۔ اس موقعے پر مقامی پولیس نے بتایا تھا کہ احتجاج کے دوران بھگڈر مچنے سے ایک زیرِ حراست مزدور ہلاک اور نو زخمی ہوگئے تھے۔اس کے علاوہ پولیس کا کہنا ہے کہ ساحلی شہر جدہ کے شمیسی حراستی مرکز میں رکھیگئے غیر قانونی تارکینِ وطن نے مرکز میں فساد پھیلانے کی کوشش کی جس کی وجہ سے مرکز کی عمارت کو نقصان پہنچا۔ غیر قانونی تارکینِ وطن کو اس مرکز میں رکھا جاتا ہے اور پھر ملک بدر کر دیا جاتا ہے۔کرنل زیاد الرقیتی نے بتایا کہ مشرقی صوبے میں گرفتار کییگئے غیر قانونی مزدوروں کو بعد میں متعلقہ اداروں کے حوالے کر دیاگیا ہے۔ ان اداروں میں سعودی حکومت کے پاسپورٹ اور لیبر آفس بھی شامل ہیں۔کرنل الرقیتی نے شہریوں کو ایسی غیر قانونی مزدوروں کی امداد کرنے یا ان کے بارے میں معلومات نہ فراہم کرنے کے خلاف تنبیہ کی ہے۔انھوں نے کہا کہ اس مسئلے کے حل ہونے تک سکیورٹی حکام یہ مہم جاری رکھیں گے۔مشرقی صوبے میں لیبر کی وزارت کے ڈائریکٹر جنرل محمد الفلاح کا کہنا ہے کہ وزارت کے حکام کی جانب سے گرفتار کیے گئے افراد کی تعداد 1586 ہے۔ انھوں نے بتایا کہ گرفتار کیے گئے افراد کو مشرقی صوبے کی پولیس کے حراستی مراکز میں بھیج دیاگیا ہے۔انھوں نے بتایا کہ 851 افراد آرٹیکل 39 کی خلاف ورزی میں ملوث تھے جس کا تعلق بغیر کفیل کے کام کرنے سے ہے۔ ان کے مطابق 60 افراد آرٹیکل 38 کے حوالے سے ملزمان ہیں جو کہ مخصوص پیشے کے علاوہ کام کر رہے تھے اور 675 ملزمان آرٹیکل 25 کی خلاف ورزی کر رہے تھے جو کہ غیر حقیقی ملازمت سے متعلق ہے۔ان مہمات کے حوالے سے وزارتِ داخلہ اور لیبر کے متعدد افسران کو بہترین کارکردگی کے لیے سراہا گیا ہے۔سعودی عرب میں قانون نافذ کرنے والے ادارے لیبر قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کئی بار مہم چلا چکے ہیں جن میں ان قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے مزدوروں کے رہائشی علاقوں میں کارروائیاں اور گرفتاریاں کرنا شامل ہوتا ہے۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN