Friday, 27 September 2013

امریکا اور ایران کے درمیان برف بالآخر پگھل ہی گئی

امریکا اور ایران کے درمیان برف بالآخر پگھل ہی گئی۔ دونوں ملکوں کے صدور کے درمیان 33 سال بعد فون پر پہلا براہ راست تاریخی رابطہ ہوا۔ بارک اوباما اور حسن روحانی نے ایٹمی تنازع حل کرنے کے لئے کوششیں تیز کرنے پر اتفاق کیا ہے۔امن کی فاختہ امریکا اور ایران کے درمیان اپنے پَر پھیلارہی ہے۔ چند ہفتے پہلے تک ایک دوسرے کے ساتھ بات کرنے سے گریزاں امریکی اور ایرانی حکام اب شیر و شکر ہورہے ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور امریکی صدر بارک اوباما کے درمیان فون پر رابطے نے تلخی سے بھرپور ماحول کو یکسر بدل دیا ہے۔ 1979 کے بعد کسی امریکی اور ایرانی صدر کے درمیان یہ پہلا رابطہ ہے۔ یہ حقیقت جہاں دونوں ملکوں کے درمیان گہری بے اعتمادی کو اجاگر کرتی ہے، وہیں اس مشکل تاریخ سے آگے نکلنے کے امکانات کی نشاندہی بھی کرتی ہے۔صدر اوباما نے بتایا انہوں نے ایرانی صدر سے کہا ہے کہ تنازع کا جامع حل ممکن ہے۔ ایران اور امریکا ایٹمی تنازع کے جامع حل تک پہنچ سکتے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے اور صدر روحانی نے اپنی ٹیموں کو حکم دیا ہے کہ وہ کسی معاہدے پر پہنچنے کے لئے سلامتی کونسل کے پانچ مستقل رکن ممالک اور جرمنی کے تعاون سے تیز رفتاری کے ساتھ کوششیں جاری رکھیں۔ اس عمل کے دوران ہم اسرائیل سمیت خطے میں اپنے دوستوں اور اتحادیوں کے ساتھ قریبی رابطے میں رہیں گے۔ادھر تہران میں ایرانی صدر کے دفتر نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں کہا کہ دونوں صدور نے ایٹمی تنازع جلد از جلد حل کرنے کے باہمی سیاسی عزم کا اظہار کیا ہے

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN