Thursday, 3 September 2015

عرب ممالک میں کام کرنے والے غیر ملکیوں کی خون پسینے کی کمائی کا ایک قابل ذکر حصہ کفیل کی جیب میں چلا جاتا ہے اور اسے یہ مال اکٹھا کرنے کیلئے ہاتھ بھی نہیں ہلانا پڑتا، تو کیا اسلامی تعلیمات کے مطابق ایسی کمائی جائز ہے؟ یہ وہ سوال ہے جو ایک عرصے سے لوگوں کے ذہنوں میں گردش کررہا تھا، اور دبے دبے الفاظ میں اس پر بات بھی ہورہی تھی مگر اس موضوع پر ایک سعودی عالم کے فتوے کے بعد معاملہ کھل کر سامنے آگیا ہے اور اب روایتی میڈیا کے ساتھ ساتھ سوشل میڈیا پر بھی اس موضوع پر دھواں دھار بحث کا آغاز ہوگیا ہے۔ نیوز سائٹ ’’سعودی گزٹ‘‘ کے مطابق ممتاز سعودی عالم کے فتوے کے بعد دونوں اطراف کے دلائل سامنے آرہے ہیں۔ ایک رائے تو یہ ہے کہ کفیل کا نظام غلامی کی ہی دوسری شکل ہے اور مذہبی نقطہ نظر سے اسے جائز قرار نہیں دیا جاسکتا، دوسری جانب سعودی عالم نے اس طرزِ کاروبار کو جائز قرار دے دیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اگر کفیل کا نظام قانونی حدوں کے اندر اور ناجائز منافع کے لالچ سے پاک ہو تو اسے جائز سمجھا جاسکتا ہے لیکن بے شمار مثالیں ایسی ہیں کہ جہاں ملازم کو ایک طے شدہ ماہانہ رقم کفیل کو ادا کرنا پڑتی ہے، چاہے اس کی اپنی کمائی جتنی بھی کم اور حالات جیسے بھی خراب ہوں۔ اسی طرح کفیل کوئی بھی سروس فراہم کرنے کے بدلے حد سے زیادہ معاوضہ وصول کرتے ہیں، مثلاً کچھ کفیل اقامہ کی تجدید کیلئے 5000 سے 15000 ریال تک لیتے ہیں۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ ایسی صورتحال میں کفیل کی کمائی کو کس طرح حلال قرار دیا جاسکتا ہے۔ یہ دلچسپ اور اہم بحث ہر آنے والے دن کے ساتھ زور پکڑتی جارہی ہے


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN