Wednesday, 7 January 2015

سعودی حکومت کے حالیہ فیصلے کے مطابق غیر ملکیوں کو اکیس جنوری سے ہیلتھ انشورنس کے بغیر سعودی عرب میں قیام کے لیے اقامہ جاری کیا جائے گا نہ پہلے سے جاری شدہ کسی اقامہ کی تجدید کی جائے گا۔ یہ بات سعودی عرب کے ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ نے بتائی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ یہ مہم محکمہ پاسپورٹ کو کونسل برائے کوآپریٹو پیلتھ انشورنس کی طرف سے سعودی محکمہ پاسپورٹ کو کی گئی درخواست کے بعد شروع کی جا رہی ہے۔ اس مہم کے نتیجے میں کسی غیر ملکی شہری یا اس کے اہل خانہ سمیت کسی کے بھی اقامہ کی اس وقت تک تجدید ہو سکے گی، نہ اقامہ کی مدت میں توسیع ہو گی اور نہ ہی انہیں نئے اقامے جاری ہو سکیں گے، جب تک کہ ان کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ہوں گے۔ ڈائریکٹر جنرل پاسپورٹ کرنل خالد شیخان کا کہنا ہے کہ اقامہ کے لیے درخواست دینے والوں کے لیے لازم ہو گا کہ وہ اپنا پیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ ہمراہ پیش کریں۔ ڈائریکٹر جنرل کے مطابق اس سلسلے میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس غیر ملکیوں کی انشورنس کے حوالے سے ڈیٹا فراہم کرے گی اور اس کی روشنی میں اقامہ جاری کیا جائے گا یا اس کی تجدید کی جائے گی۔ انہوں نے کہا جن غیر ملکیوں کے ہیلتھ انشورنس سرٹیفیکیٹ نہیں ملیں گے انہیں اقامہ جاری نہیں ہو سکے گا۔ اس سے پہلے ایک بیان میں کونسل برائے کوآپریٹو ہیلتھ انشورنس کی طرف سے کہا گیا تھا جو کفیل حضرات اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی پیلتھ انشورنس کے حوالے سے ادائیگی نہیں کریں گے تو ان سے قانون کے مطابق سختی سے یہ وصولیاں کی جائیں گی۔ حتی کہ پہلے سے موجود واجب الادا رقوم بھی حاصل کی جائیں گی اور جرمانہ بھی وصول کیا جائے گا۔ اس حوالے سے غیر ملکی شہریوں کا خیال ہے کہ ان کے تمام اہل خانہ کی ہیلتھ انشورنس سے متعلق فیصلہ کے بعد کمپنیاں تمام کارکنوں سے پریمیم کے معاملے میں سختی کریں گی۔ واضح رہے سعودی عرب میں دس لاکھ کے قریب غیر ملکیوں کی انشورنس ہے اور ان کی ہیلتھ انشورنس کو مجموعی طور پر انتیس انشورنس کمپنیاں ڈیل کرتی ہیں۔ توقع کی جا رہی ہے کہ دوہزار اٹھارہ تک خلیجی ممالک میں ہیلتھ انشورنس کی مارکیٹ کا حجم انہتر اعشاریہ چار ارب ڈالر ہو جائے گا۔ دوہزار تیرہ میں یہ حجم انتالیس اعشاریہ چار ارب ڈالر تھا۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN