Thursday, 8 January 2015

سعودی حکام نے بھکاریوں کے خلاف مہم تیز کر دی ہے اور حالیہ چند دنوں میں دارالحکومت ریاض میں ہزاروں بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے گزشتہ روز بھی ریاض شہر کے گردونواح سے مختلف چھاپوں میں 190 بھکاریوں کو گرفتار کیا ہے جن میں 50 بھکاری بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ان بچوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی اور ان کے فلیٹوں اور گھروں پر مارے گئے ۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ افراد ٹریفک کے اشاروں پر ڈرائیوروں کو مختلف اشیاء پھول وغیرہ خریدنے پر مجبور کرنے اور مختلف طریقوں سے بھیک مانگنے میں ملوث پائے گئے۔ پولیس نے ان کی بیساکھیوں، مصنوعی اعضاء وغیرہ بھی برآمد کر لیں۔ دریں اثناء سعودی پولیس کی جاری سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 8757 بھکاریوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں زیادہ تر ایتھوپیا، نائجیریا، سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر ان کے متعلقہ ملک ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بھکاریوں کو وزارت سماجی امور کے بجالی مراکز میں بھیج دیا جاتا ہے۔

 سعودی حکام نے بھکاریوں کے خلاف مہم تیز کر دی ہے اور حالیہ چند دنوں میں دارالحکومت ریاض میں ہزاروں بھکاریوں کے خلاف کریک ڈاؤن کیا ہے۔ سعودی ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق پولیس نے گزشتہ روز بھی ریاض شہر کے گردونواح سے مختلف چھاپوں میں 190 بھکاریوں کو گرفتار کیا ہے جن میں 50 بھکاری بچے بھی شامل ہیں۔ پولیس نے ان بچوں کی نقل و حرکت کی نگرانی کی اور ان کے فلیٹوں اور گھروں پر مارے گئے ۔ مقامی پولیس کے مطابق یہ افراد ٹریفک کے اشاروں پر ڈرائیوروں کو مختلف اشیاء پھول وغیرہ خریدنے پر مجبور کرنے اور مختلف طریقوں سے بھیک مانگنے میں ملوث پائے گئے۔ پولیس نے ان کی بیساکھیوں، مصنوعی اعضاء وغیرہ بھی برآمد کر لیں۔ دریں اثناء سعودی پولیس کی جاری سالانہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال 8757 بھکاریوں کو گرفتار کیا گیا تھا اور ان میں زیادہ تر ایتھوپیا، نائجیریا، سعودی عرب اور چند دیگر ممالک کے شہری شامل ہیں جن میں سے زیادہ تر ان کے متعلقہ ملک ڈی پورٹ کر دیا جاتا ہے جبکہ سعودی عرب سے تعلق رکھنے والے بھکاریوں کو وزارت سماجی امور کے بجالی مراکز میں بھیج دیا جاتا ہے۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN