Tuesday, 14 October 2014

سعودی معاشرہ روایت پسند ہے اور یہاں خواتین پردے کا اہتمام کرتی ہیں لیکن کیمرے والے موبائل فون اور ان سے بنا ئی گئی تصویروں اور ویڈیوز کی انٹرنیٹ پر اشاعت ان پردہ دار خواتین کے لئے بہت بڑی مصیبت بن گئی ہے۔خواتین کا کہنا ہے کہ ان کے لئے سب سے بڑی پریشانی یہ ہے کہ پرائیویٹ تقریبات کی تصویریں فیس بک ٹوئٹر اور یو ٹیوب جیسی ویب سائٹوں پر آجاتی ہیں۔ یہ تصاویر گھریلو جھگڑوں ، تلخ کلامی اور حتیٰ کہ طلاقوں کا باعث بھی بن رہی ہیں ۔ سارہ عبداللہ نامی خاتون نے بتایا کہ خواتین موبائل فون چھپا کر تقریبات میں لے آتی ہیں ۔لیکن ان میں سے اکثر کا ارادہ محض یادگار لمحات کو محفوظ کرنا ہوتا ہے۔عدیلہ العامری نے بتایا کہ بعض خواتین کی بنائی ہوئی ویڈیوز اور تصاویر انٹرنیٹ پر بھی پہنچ جاتی ہیں۔جن سے ان کی شہرت کو نقصان پہنچتا ہے اور گھریلو زندگی میں مسائل پیدا ہوتے ہیں ۔ قانونی ماہر عبدالعزیز دشنان نے بتایا کہ کسی کی تصاویر اور ویڈیوز بغیر اجازت عام کرنا جرم ہے اور اس کی پاداش میں 15سال قید اور 10لاکھ تک جرمانہ ہو سکتا ہے


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN