Friday, 19 September 2014

نیند کی کمی وہ واحد وجہ نہیں ہے جس سے آپکی توانائی میں کمی آجاتی ہے بلکہ کچھ ایسی چیزیں جو آپ سرانجام دیتے ہیں اور کچھ ایسی جو آپ سرانجام نہیں دیتے جسمانی اور اپنی تھکن کا باعث بنتی ہیں جو آپ کے دن کو پرتھکان بناسکتی ہیں۔ ذیل میں ماہرین نے کچھ بدعادات کا تذکرہ کیا ہے جو تھکن کا باعث ہوتی ہیں۔ (1)تھکن کے خوف سے ورزش ترک کرنا توانائی بچانے کے لیے روزمرہ مشقت ترک کردینا بعض اوقات آپ کے خلاف کام کرتا ہے یونیورسٹی آف جارجیامیں ہوئی ایک سٹڈی کے مطابق ایسے افراد جو ہفتے میں تین دن بیس منٹ روزانہ کے حساب سے معمولی ورزش کرتے ہیں اور کچھ ہفتے کی مسلسل ورزش کے بعد انہوں نے نسبتاً کم تھکن محسوس کی بلکہ خود کو پہلے سے زیادہ طاقت ورپایا اور ان کا نظام قلب پہلے سے بہتر کام کرنے لگا۔ باقاعدگی سے ورزش کرنے سے آپ کے جسم کو زیادہ آکسیجن ملتی ہے اور بافتوں تک پوری غذا پہنچتی ہے۔ (2)آپ پوری طرح پانی نہیں پیتے محض 2 فیصد پانی کی کمی آپ کے جسم میں توانائی کی سطح کو کم کردیتی ہے پانی کی کمی سے خون کی مقدار اور جسم میں کمی آتی ہے جس سے خون گاڑھا ہوتا ہے۔پانی زیادہ پینے سے آپ کے دل کو خون پمپ کرنے کیلئے کم زور لگانا پڑتا ہے اور اس سے آپ کے ہر مالیکیوں تک توانائی اور غذا کی پوری مقدار پہنچتی ہے ۔ جسم میں پانی کی مطلوبہ مقدار معلوم کرنے کیلئے اپنا وزن پاؤنڈز کے حساب سے ماپیں اور اسے نصف پر تقسیم کریں اور اتنے ہی اونس روزانہ پانی استعمال کریں۔ (3) آپ مطلوبہ مقدار میں آئرن استعمال نہیں کرتے آئرن کی کمی سے آپ سستی کا شکار ہو جاتے ہیں اور خود کو چڑچڑا محسوس کرتے ہیں اس کے علاوہ آپ کو توجہ مرکوز کرنے میں دقعت ہوتی ہے، آئرن کی کمی آپ کو اس میں مبتلا کرتی ہے کیوں کہ آپ کے خون میں آپکے پٹھوں اور خلیوں تک آکسیجن کی صحیح مقدار نہیں پہنچ پاتی۔ ماہرین کے بقوں خون کی کمی سے بچنے کے لئے آئرن کا زیادہ استعمال کرنا چاہیئے، ڈاکٹر کہتے ہیں کہ آئرن کی کمی بعض اوقات سنجیدہ صحت کے مسائل کا پیش خیمہ بھی ہوسکتا ہے اس صورت میں اپنے ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیئے۔ (4)آ پ کمال پر ست ہیں خود کو مکمل ثابت کرنا ناممکن ہے، ضرورت سے زائد کام کرناتھکن کا باعث ہوتا ہے خود کو کامل ثابت کرنے کیلئے اپنے لئے کام کے ایسے اہداف مقرر کرلینا جن کا پورا کرنا انتہائی مشکل یا ناممکن ہو آخر کار عدم اطمینان کا باعث ہوتا ہے۔ (5)آپ رائی کا پہاڑ بناتے ہیں جب بھی آپ کا باس آپ کو کسی غیر متوقع میٹنگ میں بلاتا ہے توآپ فرض کرلیتے ہیں کہ آپ کا باس آپ کو نوکری سے نکال دے گا آپ اس قدر لاپرواہی سے موٹر سائیکل چلاتے ہوئے جاتے ہیں کہ ایکسیڈنٹ کر بیٹھتے ہیں جس سے خطرناک صورت حال کا سامنا ہوسکتا ہے اس قسم کی پریشانی اور تشویش آپ کو فالج زدہ بنادیتی ہے اور ذہنی طور پر تھکن کا باعث ہوتی ہے۔ (6)آپ ناشتہ چھوڑنے کے عادی ہیں آپ جو غذا کھاتے ہیں ایندھن کا کام کرتی ہے، اور جب آپ سوتے ہیں تو ساری رات آپ کا جسم وہی کچھ خرچ کرتا ہے جو آپ نے رات کے کھانے میں کھایا ہوتا ہے آپ کے جسم کو توانائی پہچانے کیلئے دن کو اس توانائی کی ضرورت ہوتی ہے جب آپ صبح سوکر اٹھتے ہیں تو آپ کے جسم کو مزید چلنے کیلئے غذا کا ایندھن اور چاہیئے ہوتا ہے، ناشتے کا ترک کرنا اس بات کی علامت ہے کہ آپ کا دن سست گزرے گا۔ (7)آپ ہلکی غذا پر زندہ رہتے ہیں سادہ کریب اور نشاستہ دار غذائیں انتہائی درجے کی شوگر پیدا کرتی ہیں جو بلڈ شوگر میں اضافے کا باعث ہوتی ہے جس سے جسم تھکن کا شکار رہتا ہے اس وجہ سے پورا کھانا کھانے کی عادت ڈالیں۔ (8)آپ کو نہ کہنے کی عادت نہیں اکثر لوگ آپ کی توانائی اور خوشیوں کے بل پر جینے کے عادی ہوتے ہیں جس سے معاملات بگڑ جاتے ہیں اور نتیجاً آپ ہر وقت غصے میں رہتے ہیں لہذاً خواہ آپ کے بچے کا استاد آپکو کہے کہ اسکی ٹیم کے لئے کو کیز بنادو یا آپ کا باس یہ کہے کہ ہفتے کے دن تم کام کرسکتے ہو تو بہتری اسی میں ہے کہ آپ ہاں کہنے کی بچائے انکار کردیں لہذا ایسی صورتحال میں انکار کرنے کی عادت ڈالیں۔ (9) آپ گندے دفتر میں کام کرتے ہیں بے ترتیب اور بھرا پڑا میز آپ کو اپنے کام پر مزید توجہ دینے کی صلاحیت کو کم کرتا ہے اور آپ کی ذہنی صلاحیتوں پر بھی اثر انداز ہوتا ہے ایک سٹڈی کے بعد یہ تجویزدی گئی ہے کہ ہر دن کے آخر میں اس بات کی تسلی کرلیں، آپ کی استعمال شدہ چیزیں ترتیب سے رکھی جاچکی ہیں اگلے دن یہ ایک خوشگوار دن کے آغاز میں آپ کی معاون ہوں گی۔ (10) چھٹی کرنے کے بعد کام مت کریں چھٹی والے دن یا چھٹی کرنے کے بعد آفس کا کام کرنا یا ای میل وغیرہ چیک کرنا بھی تھکان پیدا کرنے کے زمرے میں آتا ہے لہذا گھر آکر آفس کا کام مت کریں کیوں کہ جب آرام کے بعد جب آپ دفتر جائیں گے تو یہی کام زیادہ اچھے طریقے سے کرسکتے ہیں۔ (11)سونے سے قبل ایک یادوگلاس شراب کے خواب آور اثرات دینے سے قبل الکوحل سندل نروس سسٹم کو دباتی ہے لیکن بعدازاں نیند برقرار نہیں رکھ سکتی بلکہ نیند کو خراب کردیتی ہے اور آپ آدھی رات کو اٹھ سکتے ہیں جس سے بجائے آرام کے تھکن اور الجھن میں اضافہ ہوتا ہے۔ (12)سونے کے وقت ای میل چیک کرنا رات کے وقت سونے سے قبل اپنے فون یا کمپیوٹر کی روشنی میں ای میل وغیرہ چیک کرنے سے آپ کے جسم کا وہ مطری درھم خراب ہوجاتا ہے جسے میلا ٹونن نامی ہار مون نے دبا رکھا ہوتا ہے جو نیند اور بیداری میں مناسبت پیدا کرتا ہے۔ (13)آپ کے دن کا الخصار کیفین پر ہے جاوا جالٹ سے دن کا آغاز کوئی بڑی بات نہیں ہے، دراصل ایک تحقیق سے ثابت ہوا ہے کہ دن میں کافی کے تین کپ آپ کے لئے مفید ہیں لیکن کیفین کی زیادتی آپکے سونے اور جاگنے کے چکر کو بری طرح متاثر کرتی ہے۔ (14)ہفتے کی رات دیر تک جاگنا اور اتوار کو دن بھر سوتے رہنا اتوار کی رات کی نیند خراب کرتا ہے جو پیر والے دن تھکن اور کمزوری کا باعث ہوتی ہے۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN