Friday, 25 September 2015

سعودی حکومت حج انتظامات پر اربوں ریال خرچ کرتی ہے اور مقامات مقدسہ پر عظیم الشان منصوبوں پر عمل درآمد کیلئے ذرائع استعمال کررہی ہے ، کہاجاتاہے کہ حکومت کو بھی اربوں ریال کامنافع ہوتاہے لیکن اب حقیقت سامنے آگئی ہے اور عرب نیوز نے بتایاہے کہ ریاست حج انتظامات کو اپنی مذہبی ذمہ داری سمجھتی ہے اور حج آپریشن سے کوئی منافع بھی نہیں حاصل نہیں کرتی ۔ ’عرب نیوز ‘نے اپنے اداریئے میں لکھاہے کہ جمعرات کو ہونیوالے سانحے نے ہرایک شخص کو افسردہ کردیاہے اور مزید حفاظتی اقدامات کی ضرورت ہے لیکن محفوظ اورآرام دہ حج کیلئے سعودی حکومت کی کاوشیں بھی نظراندازنہیں کی جاسکتیں ۔شہادتوں پر کوئی عذر نہیں لیکن حجاج کرام میں شعور اور نظم وضبط کو اجاگر کرنے کی ضرورت ہے ، ماضی میں بھی حاجیوں کی طرف چلتے ہوئے بیگ اٹھائے رکھنے اور ہدایات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے واقعات ہوچکے ہیں ۔ دنیا بھر میں جسمانی طورپر ایسے ہجوم کو کنٹرول کرنا ممکن نہیں جہاں لاکھوں لوگ ایک ہی وقت اور محدود جگہ پر موجود ہوں ۔ اخبار نے لکھاکہ 164مختلف ممالک اور کلچر ز کے دو یا تین ملین مسلمانوں کو کنٹرول کرنا بہت بڑا کام ہے ، دنیا میں ایسا کسی ملک کو تجربہ نہیں جویہاں کے حکام نے خوشگوار انداز میں حج انتظامات سے سیکھاہے ، حجاج کو 10ملین کیوبک پانی چاہیے ہوتاہے ، 800سے زائد پروازیں ایک دن میں جدہ کے شاہ عبداللہ ایئرپورٹ پر اترتی ہیں ، لاکھوں سیکیورٹی اہلکار اور رضاکار کسی بھی ناخوشگوار واقعہ سے نمٹنے کیلئے ہمہ وقت تیار رہتے ہیں اور یہ تمام امور سیاست سے بالاتر ہوتے ہیں ، بلاشبہ اس سال درجہ حرارت میں غیر معمول اضافہ بھی حکام کیلئے ایک امتحان تھا۔ ذرائع نے بتایاکہ سعودی عرب میں آنیوالے حجاج کرام کی خریداری اور ہوٹلوں میں قیام سمیت دیگر اخراجات سے سعودی معیشت کو کافی سہارا ملتاہے تاہم خود حکومت اس ضمن میں صرف کرنے کے علاوہ حجاج یا متعلقہ حکومت سے پیسے حاصل کرنے کی کوئی فہرست میں رکھتی ۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN