Friday, 6 February 2015

سعودی عرب کے فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیزکی وفات پرجہاں ایران کے صدر ڈاکٹر حسن روحانی کی جانب سے تعزیت کی گئی اور وزیرخارجہ جواد ظریف نے خود ریاض پہنچ کر شاہ عبداللہ کی وفات پرافسوس کا اظہارکیا۔ وہیں ایران کے کئی سرکردہ مذہبی اور سیاسی رہ نماؤں کی جانب سے خادم حرمین شریفین کے انتقال پر افسوس کے بجائے خوشی کا اظہار کیا گیا۔ ایرانی سرکارمیں شاہ عبداللہ کی رحلت کے حوالے سے متضاد بیانات نے ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے۔العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق ایران کی دستوری کونسل کے چیئرمین اور جامع تہران کے امام وخطیب آیت اللہ جنتی اپنے خطبہ میں شاہ عبداللہ کی وفات پر خوشی کا اظہارکیا۔ ان کے اس طرزعمل پرایرانی دانشور ڈاکٹر صادق زیبا کلام نے ایک کھلا خط شائع کیا ہے جس ہے میں جس میں اس طرز عمل پر سخت احتجاج کیا گیا ہے۔ڈاکٹر کلام کا کہنا ہے کہ آیت اللہ جنتی جیسی شخصیت کو اپنے عہدے اور مقام منصب کا لحاظ رکھتے ہوئے کسی ایسے متنازعہ بیان سے سختی سے گریز کرنا چاہیے جو ان کی اور پوری ایرانی قوم کی بدنامی کا موجب بنے۔ انہوں نے کہا کہ علامہ جنتی صرف اہل تشیع مسلک کے عالم دین ہی نہیں بلکہ وہ ایک اہم حکومتی منصب فائز ہیں۔ انہیں اہنے منصب کا خیال رکھنا چاہیے۔ انہوں نے اپنے خطبہ جمعہ میں ایسے الفاظ کا استعمال کیا جس سے یہ تاثر ابھرتا ہے کہ انہوں نے شاہ عبداللہ کی وفات پر افسوس کے بجائے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ نیز انہوں نے یہ متضاد بیان ایسے وقت میں دیاجب تہران حکومت کی طرف سے شاہ عبداللہ کی وفات پر تعزیت اور افسوس کا اظہار کیا گیا ہے۔"شیعہ۔ سنی اختلافات بڑھانے سے گریز کیا جائے"ایرانی دانشور ڈاکٹر زیبا کلام نے کہا کہ پچھلے کچھ عرصے سے خطے میں شیعہ۔ سنی اختلافات زیادہ شدت کے ساتھ سامنے آئے ہیں شیعہ سنی اختلافات میں غیرمعمولی اضافہ اور فرقہ وارانہ بنیادوں پر ہونے والی لڑائیوں کی روک تھام کے لیے علماء کو اہم کردار ادا کرنا ہوگا۔ انہوں نے شام میں جاری شورش کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ پچھلے دو سال سے ہم شیعہ، سنی تصادم کا سامنا کررہے ہیں۔انہوں نے اپنے کھلے خط میں لکھا ہے کہ ہم نے شیعہ۔ سنی اختلافات کو ختم کرنے کے لیے کئی اہم کامیابیاں حاصل کی تھیں لیکن بعض لوگوں کے غیر ذمہ دارانہ طرز عمل کے نتیجے میں ہماری کامیابیوں کو بھی غیرموثر کردیا گیا۔ انہوں نے استفسار کیا کہ شیعہ۔ سنی فساد پھیلانے اور اختلافات کو بڑھ کانے والے بتائیں کہ وہ عالم اسلام کی کیا خدمت کررہے ہیں۔شاہ عبداللہ صلح جو اور اعتدال پسند رہ نماایرانی تجزیہ نگار ڈاکٹر زیبا کلام نے اپنے مکتوب میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کے مرحوم فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز ایک نیک سیرت انسان، صلح جو اور اعتدال پسند رہ نما تھے۔ سعودی عرب ہی نہیں بلکہ عرب دنیا اور مسلمان ممالک میں ان کے چاہنے والوں کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ اس وقت پوری اسلامی دنیا کی جانب سے شاہ عبداللہ کی وفات پر افسوس کا اظہار کیا جارہا ہے۔ ایسے میں علامہ جنتی یا کسی دوسرے ایرانی مذہبی رہ نما کی طرف سے ایسی بیان بازی سے گریزکرنا چاہیے جس کے نتیجے میں مسلم دنیا میں تفرقہ میں مزید اضافہ ہو۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN