Tuesday, 13 January 2015

urdu

سعودی میڈیا کے مطابق تحقیقاتی کمیشن (BIP) کو ایک غیر ملکی شخص کی جانب سے شکایت موصول ہوئی ہے جس میں اس کا موقف ہے کہ چند آرٹ پروڈکشن کمپنیوں نے اس کی مرضی کے بغیر خواتین کے جنسی استحصال کے بارے میں بنائی جانے والی ویڈیو میں اس کی 9 سابیٹی کو استعمال کیا۔ں
مقامی اخبار الوطن کے مطابق غیر ملکی شخص جس کی شادی سعودی خاتون سے ہوئی ہے، نے وزارت ثقافت کو بھی ایسی ہی درخواست جمع کروائی ہے۔ بتایا گیا ہے کہ ایک رشتہ دار 9 سالہ لڑکی فرح کو فلم کی شوٹنگ کیلئے لے گیا اور باپ کی مرضی کے بغیر چند متنازعہ سین عکس بند کروائے۔ یہ فلم اس مسئلے پر عوامی آگاہی کیلئے بنائی گئی تھی لیکن لڑکی کے باپ کا کہنا ہے کہ اس نے اس میں اپنی بیٹی کو دیکھا تو حیران رہ گیا۔ اس کے مطابق اس فلم میں کئی سین اس کی عمر کے حساب سے مناسب نہیں اور ریکارڈنگ کے دوران اسے کپڑے اتارنے پر مجبور بھی کیا گیا جبکہ اس سلسلے میں اس سے کوئی تحریری یا زبانی اجازت نہیں لی گئی۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN