Monday, 22 December 2014

سعودی عرب کی مفاہمتی کوششوں کے بعد خلیجی ریاست قطر اور عرب جمہوریہ مصر کے درمیان مصالحت ہو گئی ہے، جسے نہ صرف عرب ممالک بلکہ عالم اسلام کی جانب سے بھی خوش آئند قرار دیا گیا ہے۔ دوسری جانب قطر اور مصر دونوں نے سعودی عرب کے مصالحتی کردار کی تعریف کرتے ہوئے دونوں ملکوں کے درمیان صلح کرانے پر سعودی فرمانروا شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کا شکریہ ادا کیا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق سعودی حکومت کی طرف سے بھی دونوں عرب ملکوں کے درمیان کشیدگی کے خاتمے پر رضا مندی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے امید ظاہر کی ہے کہ صلح کا معاہدہ دونوں ملکوں کے درمیان دوستانہ تعلقات کے قیام کا ایک نیا باب ثابت ہو گا۔ خیال رہے کہ گذشتہ روز مصری صدر عبدالفتاح السیسی نے شاہی دیوان کے انچارج خالد التویجری سے ان کے دفتر میں امیر قطر الشیخ تمیم بن آل ثانی کے خصوصی ایلچی سے ملاقات کی اور دونوں ملکوں کے درمیان سعودی عرب کی مساعی سے مفاہمتی عمل آگے بڑھانے پر اتفاق کیا۔ قطر اور مصر کے درمیان کشیدگی گذشتہ برس اس وقت پیدا ہوئی تھی جب مصر میں فوجی بغاوت کے بعد اخوان المسلمون کی منتخب حکومت کو برطرف اور صدر محمد مرسی کو معزول کرنے کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ سعودی عرب میں صحافتی حلقوں کی جانب سے بھی دونوں ملکوں کے درمیان مفاہمتی عمل آگے بڑھانے کو خوش آئند قرار دیا جا رہا ہے۔ اخبار’’الریاض‘‘ کے چیف ایڈیٹر ترکی السدیریی نے ’’العربیہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دوسرے ممالک کی نسبت مصر اور قطر کے درمیان باہمی تعاون کے فروغ کے کئی پہلو موجود ہیں۔ معمولی سی کوشش کے بعد قاہرہ اور دوحہ کو ایک دوسرے کے قریب لایا جا سکتا کیونکہ دونوں ملکوں کے مفادات مشترک ہیں اور دونوں ماضی میں ایک دوسرے کے ساتھ چلتے رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں السدیری نے کہا کہ عرب دنیا اس وقت کئی بحرانوں کا شکار ہے۔ مصر بذات خود ایک بدترین داخلی بحران کا سامنا کر رہا ہے۔ ایسے میں قطر جیسے ملک کے ساتھ اس کی صلح قاہرہ کو داخلی بحران کے حل میں ہر ممکن مدد فراہم کرے گی۔ نیز عرب ممالک میں موجود دیگر تنازعات کے حل میں بھی یہ مصالحت مدد گار ثابت ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور قطر کے درمیان اختلافات گذشتہ دنوں ریاض اور اس کے بعد دوحہ میں ہونے والی عرب سربراہ کانفرنسوں کے دوران ہی اختتام تک پہنچ گئے تھے۔ سعودی تجزیہ نگار محمد آل الشیخ نے’’العربیہ‘‘ سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ قطر اور مصر کے درمیان مصالحت کرانا سعودی عرب کی ایک کامیاب کاوش اور شاہ عبداللہ کی دانشمندانہ کوششوں کا نتیجہ ہے۔ شاہ عبداللہ نے عالم اسلام بالخصوص عرب ممالک میںاتحاد واتفاق کے قیام کی ہر ممکن کوششیں جاری رکھیں اور آج ہم اس کے ثمرات بھی دیکھ رہے ہیں۔ ایک سوال کے جواب میں آل الشیخ کا کہنا تھا کہ قطر اور مصر کے درمیان اختلافات بہت پہلے ہی ختم ہو گئے تھے۔ سعودی عرب کی مفاہمتی مساعی نے دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب کر دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ میرے معلومات کے مطابق شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز نے قطر اور مصرکے درمیان مصالحت کی خود نگرانی کی ہے۔ ان کی کوششوں سے مصر اور قطر کی قیادت بھی خوش اور مطمئن ہے اور انہوں نے شاہ عبداللہ کی مفاہمتی مساعی کی تعریف کی ہے۔ ایک دوسرے سوال کے جواب میں سعودی تجزیہ نگار کا کہنا تھا کہ قطر اور مصر کے درمیان مفاہمت کو عملی جامہ پہنانے کے لیے دونوں ملکوں کو جذبہ خیر سگالی کے اقدامات کرنا ہوں گے تاکہ ایک دوسرے پر اعتماد کی فضاء بحال اور تعلقات کو معمول پر لایا جا سکے۔ سعودی دانشور اور سیاسی امور کے ماہر مشاری الذایدی نے’’العربیہ‘‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ مصر اور قطر کے درمیان کشیدگی اپنے انتہا کو پہنچ چکی تھی اور مفاہمت کی کوئی سبیل دکھائی نہیں دے رہی تھی۔ ایسے میں شاہ عبداللہ کی حکمت افروز مساعی نے دونوں ملکوں کے درمیان پیچیدہ مسئلے کا نہایت آسانی کے ساتھ حل نکال لیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ مصر میں پچھلے ایک سال کے دوران پیدا ہونے والی سیاسی صورت حال کے تناظر میں اس امر کا کا امکان بہت کم تھا کہ دوحہ اور قاہرہ اتنی جلدی ایک دوسرے کے قریب آئیں گے تاہم موجودہ مفاہمتی معاہدے سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عرب ممالک سعودی عرب کے مصالحتی کردار اب بھی تسلیم کرتے ہیں۔ ایک بڑے بھائی کی حیثیت سے سعودی عرب جو فیصلہ کرے دوسرے عرب ممالک اسے قبول کرتے ہیں۔ الزایدی نے کہا کہ قطر اور مصرکے درمیان مفاہمتی کوششوں کی کامیابی کا انحصار دونوں ملکوں کے عملی اقدامات سے ہو گا۔ صرف کاغذی مفاہمت کافی نہیں ہوتی اس کے لیے عملا دونوں ملکوں کو ایک دوسرے کے قریب آنے کے لیے موثر اقدامات کرنا ہوں۔ ایک دوسرے کے گلے شکوے دور کرنے کے لیے بھی اقدامات کرنا ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ مصر اور قطر کے مفادات مشترک ہیں۔ مصر کا یہ مطالبہ درست ہے کہ وہ ایک آزاد اور خود مختار ملک ہے۔ اس کے اندرونی معاملات میں کسی دوسرے ملک کو مداخلت نہیں کرنی چاہیے۔ سعودی تجزیہ نگار نے کہا کہ صلح کے بعد دونوں ملکوں کے ذرائع ابلاغ پر بھی بھاری ذمہ داری عاید ہوتی ہے کہ وہ دو طرفہ تعاون کو مستحکم بنانے کے لیے اپنا مثبت کردار ادار کریں اور منفی پہلو اجاگر کرنے اور بلا جواز ایک دوسرے پر تنقید سے گریز کریں۔ مصر کا خیر مقدم مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی نے گذشتہ روز سعودی عرب میں شاہی محل میں شاہ عبداللہ بن عبدالعزیز کے پرنسپل سیکرٹری خالد بن عبدالعزیز التویجری اور قطر کے نائب وزیر خارجہ اور امیر قطر کے خصوصی مندوب الشیخ محمد بن عبدالرحمان آل ثانی سے ملاقات کی۔ اس ملاقات میں مصر اور قطر نے صلح کے لیے سعودی عرب کی مساعی کا خیر مقدم کرتے ہوئے دو طرفہ اختلافات بھلانے اور تعلقات کے ایک نئے دور کا آغاز کرنے پر اتفاق کیا۔ اس موقع پر مصری صدر نے شاہ عبداللہ کی جانب سے قطر کے ساتھ صلح کرانے پر سعودی حکومت کا خصوصی طور پر شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قطری حکومت کا بھی شکریہ ادا کیا کہ اس نے خادم الحرمین الشریفین کی مساعی سے قاہرہ سے اپنے اختلافات ختم کرنے پر اتفاق کیا ہے


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN