Saturday, 4 October 2014

مفتی زاہد حسین: اللہ تعالیٰ قرآن پاک میں ارشاد فرماتے ہیں”یعنی لوگوں کے ذمہ بیت اللہ شریف کا حج کرنا ہے جس کو بیت اللہ شریف تک پہنچنے کی طاقت ہو اور جو شخص انکار کرے تو بلاشبہ اللہ تعالیٰ سارے جہانوں سے بے نیاز ہے “(القرآن) حضرت ابو امامہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اقدسﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس شخص کو کوئی بہت مجبوری مثلاً تنگدستی یا سفر سے روکنے والا مرض یا ظالم حکومت حج پر جانے سے نہ روکے اور وہ پھر بھی حج نہ کرے تو اسے چاہئے کہ چاہے تو یہودی ہو کر مرجائے اور چاہے تو نصرانی ہو کر مر جائے۔ حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اکرمﷺ سے جہاد میں شریک ہونے کی اجازت طلب کی آپﷺ نے ارشاد فرمایا تمہارا یعنی عورتوں کا جہاد حج ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جہاد میں بہت سی تکلیفیں ہوتی ہیں ان کا برداشت کرنا عورتوں کے بس کا کام نہیں یہ کام مردوں کے کرنے کا ہے عورتیں اگران کا موں سے بڑھ کر زیادہ ثواب کا کام کرنا چاہیں جو اپنے گھر میں رہ کر کرتی ہیں تو ان کو حج کرنا چاہیے۔ ہا ں اگر جہاد فرض عین ہو جائے تو مرد اور عورت سب پر لازم ہوگا۔ حج اسلام کا پانچواں رکن ہے اور ہر اس عاقل اور بالغ مرد اور عورت پر فرض ہے جس کے پاس مکہ معظمہ تک آنے جانے کا سواری کا خرچ ہو اور سفر کا توشہ موجود ہو اور حج عمر بھر میں ایک مرتبہ فرض ہوتا ہے۔اس سے زائد جو حج کیا جائے گا وہ نفل ہوگا۔لیکن نفلی حج کا ثواب بھی بہت زیادہ ہے۔ حج فرض ادا کرنے میں جلدی کرنی چاہیے بہت سے مردوں اور عورتوں پر حج فرض ہوتا ہے لیکن دنیا کے دھندوں اور اولاد کی شادی کے جھمیلوں کو بہانہ بنائے رکھتے ہیں اور حج کا ارادہ ہی نہیں کرتے پھر بعض مرتبہ رقم ختم ہوجاتی ہے یا موت آجاتی ہے اور زندگی بھر حج نصیب نہیں ہوتا اور سخت گناہ گار ہو کر مرجاتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جس نے حج کیا اور اس میں فحش گفتگو نہ کی اور گناہوں کا ارتکاب بھی نہ کیا ہو تو وہ گناہوں سے ایسے پاک ہوکر لوٹتا ہے جیسا اس دن تھا جب کہ وہ اپنی ماں کے پیٹ سے پیدا ہوا تھا۔ حضور اکرمﷺ کافرما ن ہے، جس کا مفہوم ہے کہ حج ان سب گناہوں کو ختم کر دیتا ہے جو حج سے پہلے ہوئے۔ حضور اکرمﷺ نے فرمایا حج اور عمرہ کرنے والے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہونے والے لوگ ہیں ان کا مرتبہ اتنا بڑا ہے کہ اگر اللہ سے دعا کریں تو اللہ تعالیٰ قبول فرمائے اور اگر بخشش طلب کریں تو وہ ان کو بخش دے۔ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اکرمﷺ نے دعا کی اے اللہ حج کرنے والے کی مغفرت فرما اور جس کے لیے وہ بخشش کی دعا کرے اس کو بھی معاف فرما۔ حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ حضور اکرمﷺ نے فرمایا کہ حج اور عمرہ ساتھ ساتھ کیا کرو یعنی حج کے بعد عمرہ بھی کر لیا کرو کیونکہ یہ دونوں تنگدستی اور گناہوں کو اس طرح دور کر دیتے ہیں جیسے بھٹی لوہے اور سونے چاندی کے میل کو دور کر دیتی ہے اور ارشاد فرمایا کہ حج مبرورکا ثواب بس جنت ہی ہے۔ حج مبرور وہ حج ہے جو حلال مال سے کیا جائے اور جس میں گناہوں سے پرہیز کیا جائے اور حج میں جن چیزوں سے منع کیا گیا ہے ان سے دور رہے۔حج کے شرعی اخراجات میں سفر مدینہ اور تبر کات کا خرچ شامل نہیں۔ حساب لگا ئیں کہ ہمارے پاس جائیداد اور زیور اور نقدی کی کس قدر مالیت ہے اگر حج فرض ہوتا ہو تو اس کی ادائیگی میں با لکل کوتاہی نہ کریں۔ حج کی فرضیت کے لیے مکہ شریف تک سواری سے آنے جانے کا خرچہ اور راستہ کے اخراجات کا ہونا شرط ہے۔ تبرکات جو خرید کر لاتے ہیں ان کو حج کے خرچ میں شمار کرنا غلط ہے۔بلکہ روایات کے مطابق اگر مدینہ منورہ آنے جانے کا خرچہ نہ ہو اور مکہ تک آنے جانے کی طاقت ہو تو اس صورت میں بھی حج فرض ہو جاتا ہے۔البتہ معلم کی فیس اور وہ اخراجات جو حکومتوں نے قانوناًلازم کر رکھے ہیں ،ان کا خرچ حج کے خرچہ میں شمار ہوگا اگر چہ بعض ٹیکس ایسے ہیں جو حکومت قانوناً وصول کرتی ہے ان کے بغیر چونکہ حج کیلئے روانگی نہیں ہو سکتی اس لیے مجبوراًان کا خرچ بھی حج میں شامل ہوگا۔


If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN