Sunday, 13 April 2014

جہیز کم لانے پر ننکانہ کے علاقہ بڑا گھر میں خاوند اور سسرالیوں کے ہاتھ قتل ہونے والی 20سالہ تسلیم کا معذور باپ اور بوڑھی ماں انصاف کے لئے دربدر کی ٹھوکریں کھانے لگے مگر نہ تو ان کی پولیس سنتی ہے نہ ہی اعلیٰ حکام تک ان کی شنوائی ہو رہی ہے۔ جس پر مقتولہ کے بوڑھے والدین نے بھی خود سوزی کا فیصلہ کر لیا۔ تفصیلات کے مطابق 20سالہ تسلیم بی بی کی شادی ڈیڑھ سال قبل ننکانہ کے علاقہ بڑا گھر میں ساجد نامی شخص سے ہوئی تھی جسے جہیز کم لانے پر اس کا خاوند اور سسرالی رشتے دار تشدد کا نشانہ بناتے ۔ ڈیڑھ ماہ قبل اس کے خاوند ساجد اور جیٹھ امتیاز نے ساتھیوں سے مل کر قتل کر دیا۔پولیس ملزمان کی پشت پناہی کر رہی ہے۔ مقتولہ کے معزور باپ سخی محمد اور بوڑھی ماں نذیراں بی بی کو پولیس دبائو ڈال رہی ہے کہ صلح کر لوورنہ تمہارے خلاف مقدمہ درج کر کے تھانے میں بند کر دیں گے۔ تفتیشی افسر اصغر کہتا ہے کہ تم مان جائو ورنہ بھگتنا پڑے گا۔ ایس ایچ او بوڑھے والدین کی تھانے میں تذلیل کرتا ہے۔سخی محمد اور نذیراں بی بی نے نوائے وقت کو آ کر اعلیٰ حکام سے انصاف کی اپیل کی کہ اگر انہیں انصاف نہ ملا تو وہ وزیر اعلیٰ پنجاب کے گھر کے باہر خود سوزی کر لیں گے

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN