Tuesday, 18 March 2014

سینٹ کی خارجہ امور کمیٹی نے بند کمرے میں منقعد ہونے والے اجلاس میں سعودی عرب سے پاکستان کو ڈیڑھ ارب ڈالر کی امداد، پاکستان کے ایران سے سفارتی تعلقات اور چین میں ہونے والی دہشت گردی پر بات چیت کی ہے۔ اجلاس کے شرکا نے بی بی سی کو بتایا خارجہ امور کی کمیٹی کو وزیراعظم کے مشیر برائے قومی سلامتی اور امور خارجہ سرتاج عزیز اپنی بریفنگ میں اپوزیشن ارکان کو مطمئن کرنے اور ارکان کے سوالوں کے تسلی بخش جواب دینے ناکام رہے۔ اگرچہ کمیٹی کے ارکان کھل کر بات کرنے سے گریز کر رہے ہیں لیکن جن سے بھی بات ہوئی ان کا یہی سوال تھا کہ کس بنیاد پر پاکستان کے دیرینہ دوست سعودی عرب نے اتنی مدد کی۔ عوامی نیشنل پارٹی کے رہنما سینیٹر حاجی عدیل نے کہا ہے کہ ہمارے سوالات کے جوابات دیئے گئے لیکن مطمئن نہ ہونے کی وجہ یہی ہے کہ ہم نے اس پیسے کے بدلے کیا دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سرتاج عزیز نے کمیٹی کو بتایا ہے یہ پیسہ سعودی عرب نے دیا جو قرض نہیں تحفہ ہے، واپس نہیں کرنا پڑے گا مگر اس کے بدلے میں پاکستان شام کے حوالے سے اپنی پالیسی بدلے گا نہ ہی سعودی عرب کو شام کے لئے ہتھیار دیئے جائیں گے۔ حاجی عدیل نے بتایا کمیٹی کی اگلی ملاقات تک ہماری کوشش ہے کہ ایک ایسا بل پاس کروا لیں جو حکومت کو پابند کرے کہ وہ بیرونی ممالک سے ہونے والے معاہدوں کو پارلیمنٹ کے سامنے پیش کرنے کی پابند ہو جائے۔ پیپلز پارٹی کی رہنما سیدہ صغری حسین امام نے کہا ’خارجہ پالیسی تو مفادات پر ہی چلتی ہے فری لنچ تو کوئی نہیں دیتا۔‘ جنرل مشرف کے دور میں پاکستان کو 20 ارب ڈالر امداد ملی تھی لیکن اس کے بعد سے آج تک ہماری معیشت کو 80 ارب ڈالر کا نقصان ہو چکا ہے۔ ’یہ نہ ہو کہ ڈیرھ ارب ڈالر کے پیچھے بھاگتے بھاگتے ہم خانہ جنگی میں ملوث ہو جائیں اور اس سے پاکستان کی معیشت اور سماجی حالات مزید بدتر ہو جائیں۔‘ اے این پی کے رہنما سینیٹر حاجی عدیل نے یہ بتایا اجلاس میں سعودی عرب میں پھنسے ساڑھے چار ہزار پاکستانیوں کے بارے میں بھی بات ہوئی۔ ایم کیو ایم کے راہنما سینیٹر طاہر مشہدی نے کہا کہ سرتاج عزیز ہمارے سوالوں کے تسلی بخش جوابات نہیں دے پائے اجلاس کے ان کیمرہ ہونے کی وجہ سے میں ابھی آپ کو تفصیلات نہیں بتا سکتا لیکن ہم پارلیمان میں اس موضوع پر بات کریں گے اپنے تحفظات پر وضاحت طلب کریں گے۔‘ خارجہ امور کے اجلاس میں صرف ڈیرھ ارب ڈالر کی مفت امداد زیر بحث نہیں رہی بلکہ اس میں ایران پر پاکستان کی پالیسی کا تذکرہ بھی ہوا۔ حاجی عدیل کہتے ہیں کہ شرکا نے ایران کی جانب سے گزشتہ دنوں سامنے آنے والی دھمکی آمیز بیان پر تشویش کا اظہار کیا جس میں ایران نے اپنے مغویوں کی رہائی کے لیے پاکستان کے اندر آ کر کارروائی کرنے کی دھمکی دی تھی۔ ’سرتاج عزیز نے بتایا ہے کہ پاکستان کے وزیراعظم اگلے چند دنوں میں ایران جائیں گے۔ ایران کے بارے میں پاکستان کی پالیسی مثبت ہے بلکہ سعودی عرب خود ایران کے ساتھ اپنے تعلقات اچھے کر رہا ہے۔‘ کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان ق لیگ کے سینیٹر مشاہد حسین سید نے قرار داد پیش کی جس میں ہمسایہ ملک چین میں دو ہفتے قبل پیش آنے والے دہشت گردی کے واقعے کی مذمت کی گئی تھی۔ اس مذمتی قرارداد میں سینیٹر مشاہد حسین سید نے قرارداد میں حکومت سے یہ مطالبہ کیا ہے وہ غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کی اس خبر کا نوٹس بھی لے جس میں چین کے علیحدگی پسند شرپسندوں گروہ ’ویگر‘ نے دعوی کیا ہے کہ وہ افغانستان سے متصل پاکستان میں موجود اپنی کمین گاہوں سے چین کے خلاف کارروائیاں کریں گے اور اپنے ساتھیوں کی ہلاکت کا بدلہ لیں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا ہے سعودی عرب نے فرینڈز آف پاکستان کے اکائونٹ میں 1.5 ارب ڈالرز کی رقم کا تحفہ دیا، سعودی عرب نے یہ رقم غیر مشروط طور پر پاکستان کو دی ہے اس کے بدلے میں پاکستان نے سعودی عرب کو کچھ نہیں دینا، شام یا کسی ایسے ملک جہاں خانہ جنگی جاری ہے وہاں اسلحہ نہیں بھیجا جائیگا۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے امور خارجہ کا اجلاس سینیٹر حاجی عدیل کی زیر صدارت ہوا۔ مشیر خارجہ نے بعض امور پر میڈیا کے نمائندوں کے سامنے تفصیلات بتانے سے انکار کر دیال۔ انہوں نے امریکی سی آئی اے کے سربراہ، سعودی ولی عہد کے دورہ پاکستان اور سرحدی کشیدگی کے حوالے سے ان کیمرہ بریفنگ دی۔ اجلاس کے دوران چین میں دہشتگردی کے واقعات کے حوالے سے مذمتی قرارداد کمیٹی میں پیش کی گئی منظور کر لیا گیا ارکان نے چین سے یکجہتی کا اظہار بھی کیا۔ مشیر خارجہ نے بتایا کہ سعودی عرب سے ملنے والی امداد کے بدلے ہم اپنی خارجہ پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں کر رہے، حکومت نے شام کے مسئلے پر یوٹرن لیا ہے نہ ہی شام اسلحہ یا جنگجو بھیج رہے ہیں۔ پاکستان شام کے بارے میں جنیوا ون اور ٹو معاہدوں کی حمایت کرتا ہے۔ سعودی عرب کا وفد معیشت، دفاع اور تجارت کے شعبوں میں تعاون کے فروغ کیلئے آیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کو ایران اور سعودی عرب کے ساتھ تعلقات میں توازن رکھنا ہوگا اور اس سلسلے میں وزیراعظم جلد ایران کا دورہ کریں گے۔ اجلاس میں بیرونی ممالک کے ساتھ معاہدوں کی پارلیمنٹ سے توثیق کے بل 2000ء پر بحث کے دوران سیکرٹری قانون بیرسٹر ظفر اللہ نے کہا بین الاقوامی معاہدوں کی توثیق کا اختیار پارلیمنٹ کے بجائے کابینہ کے پاس ہونا چاہئے، برطانیہ اور کئی ممالک میں بین الاقوامی معاہدوں کی منظوری کابینہ دیتی ہے ۔ سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے کمیٹی کو بتایا کہ سعودی عرب میں غیرقانونی طور پر رہائش پذیر تین ہزار چار سو اڑتالیس پاکستانیوں کو ایمرجنسی پاسپورٹ جاری کئے ہیں تا کہ انہیں وطن واپس لایا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ سعودی عرب کے شہر جدہ میں جلد نئے قونصلر سروس کی تعمیر کا آغاز کریں گے۔ سرتاج عزیز نے کہا کہ سعودی عرب میں ڈیپورٹیشن سینٹر میں کھانا اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں، دبئی، انگلینڈ، سعودی عرب اور یو اے ای میں پاکستانی کمیونٹی کی فلاح و بہبود کیلئے باقاعدہ کام شروع ہو گیا ہے۔

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN