Thursday, 19 September 2013

آصف اور اسحق ڈار سمیت سات سے آٹھ وفاقی وزراء ایوان میں ایک دن بھی نہیں آئے

وزیر اعظم خود ایوان میں نہ آئیں تو وفاقی وزراء اور حکومتی ارکان بھلا کیسے آئیں گے۔ جیو نیوز کی تحقیقات کے مطابق قومی اسمبلی کے ہر اجلاس میں مسلم لیگ ن کے 50 سے 60 ارکان غیر حاضر رہتے ہیں جبکہ تقریباً آدھے وفاقی وزراء بھی غائب ہوتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے 13 اگست سے 30 اگست تک جاری رہنے والے گزشتہ اجلاس میں وفاقی وزراء میں سے خواجہ آصف، شاہد خاقان عباسی اور پرویز رشید صرف 3 دن،صدر الدین راشدی ایک دن، اسحاق ڈار اور احسن اقبال 2 دن ایوان میں حاضر ہوئے۔ خواجہ سعد رفیق اور غلام مرتضیٰ جتوئی صرف پانچ دن آئے۔ وزیر مملکت اور چیف وہپ شیخ آفتاب قومی اسمبلی کے اجلاس کے ہر دن ایوان میں موجود رہے۔ وزرائے مملکت میں سے عثمان ابراہیم بھی ہر روز آئے لیکن سائر افضل تارڑ اکثر غیر حاضر رہیں۔ حکومتی ارکان میں سے حمزہ شہباز،سمیرا ملک،دانیال عزیز، ماروی میمن اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر گزشتہ پورے سیشن میں نہیں آئے جبکہ مخدوم خسرو بختیار، چودھری خادم حسین،افضل کھوکھر،ندیم عباس ،غلام بی بی بھروانہ،چودھری جعفر اقبال،رضا حیات ہراج،میر ظفر اللہ جمالی،تہمینہ دولتانہ اور ذوالفقار بھٹی بھی اکثر غیر حاضر رہے۔ اپوزیشن کے احتجاج، واک آوٴٹ ،اسپیکر کی رولنگ اور چیف وہیپ کی وزیر اعظم کو شکایات کے باوجود حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی اور رواں اجلاس کے دوران بھی خواجہ آصف اور اسحق ڈار سمیت سات سے آٹھ وفاقی وزراء ایوان میں ایک دن بھی نہیں آئے۔ سابق وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی قومی اسمبلی کے تقریباً ہر اجلاس میں موجود ہوتے تھے تاہم وزیر اعظم نواز شریف اب تک تین، چار بار ہی آئے۔ عوامی نمائندوں کو اجلاس میں شرکت پر روزانہ 3 ہزار 750 روپے الاوٴنس بھی دیا جاتاہے لیکن پھر بھی حاضری کم ہی رہتی ہے

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN