Sunday, 22 September 2013

یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی طرف سے بیک وقت کیے جانے والے حملوں میں جمعہ کے روز 56 فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے

 یمن میں جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کی طرف سے بیک وقت کیے جانے والے حملوں میں جمعہ کے روز 56 فوجی اور پولیس اہلکار ہلاک ہو گئے۔
العربیہ ٹی وی کے نامہ نگار کی رپورٹ کے مطابق القاعدہ کی مقامی شاخ کی طرف سے یہ دونوں حملے جمعہ کو علی الصباح دو بڑے عسکری اہداف پر کیے گئے۔ شروع میں ان حملوں میں ہلاک ہونے والے سکیورٹی اہلکاروں کی تعداد کم از کم پچاس بتائی گئی تھی۔

ان حملوں میں سے ایک جنوبی صوبے شبوہ میں ملکی فوج کے النشاما کیمپ پر کیا گیا۔ اس حملے میں دھماکا خیز مواد سے لدی دو گاڑیاں استعمال کی گئیں۔ ان دونوں کار بم دھماکوں میں قریب بیس افراد مارے گئے۔
دوسرا حملہ مائیفیٰ کے جنوبی قصبے میں کیا گیا، جہاں مسلح عسکریت پسندوں نے ایک مقامی فوجی ہیڈ کوارٹر پر دھاوا بول دیا۔ اس واقعے میں کم از کم دس فوجی مارے گئے۔
عسکری ذرائع کے بقول یہ بات تقریبا یقینی ہے کہ یہ دونوں حملے دہشت گرد نیٹ ورک القاعدہ کی اس علاقائی شاخ کے شدت پسندوں نے کیے، جس کا نام جزیرہ نما عرب میں القاعدہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق النشاما ملٹری کیمپ پر حملے کے لیے بارودی مواد سے لدی جو دو گاڑیاں استعمال کی گئیں، ان میں سے ایک گاڑی اس کیمپ کے اندر دھماکے سے اڑا دی گئی۔ دوسری گاڑی کے ڈرائیور حملہ آور نے یہ دھماکا اس وقت کیا جب اس کیمپ کے محافظ فوجیوں نے اسے صدر دروازے پر روک رکھا تھا۔
جنوبی یمن کا صوبہ شبوہ ایک ایسا علاقہ ہے جہاں لاقانونیت پائی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ وہاں حالیہ برسوں میں کئی بار سرکاری دستوں اور عسکریت پسندوں کے مابین شدید قسم کی خونریز جھڑپیں بھی ہو چکی ہیں۔
غربت کے شکار عرب ملک یمن میں استحکام امریکا اور کئی دوسری عرب ریاستوں کی بڑی ترجیح ہے۔ اس لیے کہ یہ ملک دنیا میں تیل پیدا کرنے والے سب سے بڑے ملک سعودی عرب کا ہمسایہ بھی ہے اور عالمی جہاز رانی کی صنعت کے اہم ترین راستوں کے بالکل قریب واقع ہے۔
یمن میں القاعدہ کے عسکریت پسندوں نے دو ہزار گیارہ کی عرب اسپرنگ کے دوران داخلی انتشار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تھی اور اس دوران وہ جنوبی یمن میں چند قصبوں اور ان کے نواحی علاقوں پر قابض ہو گئے تھے۔
یمنی فوج نے امریکا کی فوجی مدد سے گزشتہ برس ان عسکریت پسندوں کو ان کے زیر قبضہ کئی قصبوں سے نکال دیا تھا
بعد میں یمنی فوج نے امریکا کی فوجی مدد سے گزشتہ برس ان عسکریت پسندوں کو ان کے زیر قبضہ کئی قصبوں سے نکال دیا تھا لیکن تب سے القاعدہ کے یہ جنگجو حکومتی اور ملٹری اہداف پر اپنے حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔
یمن القاعدہ کے ہلاک کر دیے جانے والے بانی سربراہ اسامہ بن لادن کا آبائی ملک ہے، جہاں گزشتہ اتوار کو دارالحکومت صنعاء کی ایک عدالت نے ایک اہم فیصلہ بھی سنایا تھا۔ یہ فیصلہ موجودہ صدر منصور ہادی اور یمن میں امریکی سفیر کو قتل کرنے کے مبینہ منصوبے کے بارے میں تھا۔ اس فیصلے میں عدالت نے جزیرہ نما عرب میں القاعدہ کے تین عسکریت پسندوں کو طویل مدت کی قید کی سزائیں سنا دی تھیں۔
اسی دوران انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے یمن میں صحافیوں پر حملے اور ذرائع ابلاغ کے کارکنوں کے قتل کے بند نہ ہونے والے واقعات ملک میں میڈیا کی آزادی کے لیے خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔
ہیومن رائٹس واچ کے مطابق ملک کے موجودہ صدر منصور ہادی کو امریکا کی پشت پناہی حاصل ہے۔ وہ ملک میں زیادہ جمہوری اصلاحات متعارف کرانے کی کوششیں بھی کر رہے ہیں۔ لیکن اس کے باوجود ملک میں صحافیوں اور انسانی حقوق کے کارکنوں کو کئی طرح کے خطرات کا سامنا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ کے مطابق یمنی میڈیا کے نمائندوں کو قتل، اقدام قتل، ہراساں کیے جانے، جسمانی تشدد اور اچانک لاپتہ ہو جانے کے بڑھتے ہوئے واقعات کا سامنا ہے، جو ایک تشویشناک رجحان ہے

If You Like This Post. Please Take 5 Seconds To Share It.

comments please

Follow by Email

SEND FREE SMS IN PAKISTAN